منٹو کی افسانہ نگاری میں عنوانات کی اہمیت سعادت حسن منٹوایک کثیرالجہت شخصیت ہیں ان کی دیگر ادبی و علمی حیثیتوں کا کوئی اعتراف کرے یا نہ کرے بحیثیت افسانہ نگار اس سے انکار ممکن نہیں کہ وہ اردو کے بلندپایہ افسانہ نگارہیں۔ذکر اردو افسانے کا ہواور بات منٹو تک نہ پہنچے یہ بھلا کیسے ہو سکتاہے۔منٹو کی زندگی کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تواسکی تمام زندگی افسانہ نما ہے۔وہ اپنے افسانوں کا وہ آفاقی کردار ہے جو افسانوی لباس پہن کر حقیقت کا ننگا پن ڈھانپ لیتا ہے۔منٹو ہواکا وہ جھونکا ہے جو معاشرے ،عہد،سماج اوراقدار کو چھو کر بناسندیسہ دیئے کسی روزنِ دیوار سے نکل کربجلی کی تجلی کی طرح فضاؤں میں بکھرجاتا ہے۔منٹو وہ کڑوا گھونٹ ہے جس کو معاشرے نے چکھا تو ضرور مگر نگل نہ سکا۔منٹو کی زندگی ایک تثلیث میں بند ہے افسانہ ،سماج اور عہداور یہی عناصرافسانے کی تخلیق کا باعث ہیں اور اس مقالہ کا موضوع بھی ہیں پروفیسر شمس الحق عثمانی لکھتے ہیں "اردو افسانہ نے بہت جلد عالمی ادب میں ایک اعلی مقام حاصل کر لیا ہے ایک نسبتاًنئی زبان کیلئے یہ ایک غیر معمولی اعزاز ہے۔اردو افسانہ کو یہ اعزاز دلانے میں سب سے...
Comments
Post a Comment