Posts

امجد طفیل کا سوانحی و شخصی خاکہ امجد طفیل عصر حاضر کی نئی نسل کے نمائندہ افسانہ نگار ہیں۔ انھوں نے بہت سی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ ان اصناف میں افسانہ، انشائیے، تنقیدی مضامین شامل ہیں۔امجد طفیل یکم دسمبر ۱۹۶۳ ء کو ضلع نارووال میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ایم ۔سی پرائمری سکول کوچہ گئیہ بازار تیزابیہ سے حاصل کی۔آپ نے میٹرک کا امتحان ۱۹۷۹ ء میں مسلم گورنمنٹ سکول بھاٹی گیٹ سے پاس کیا اور انٹر کا امتحان ۱۹۸۲ ء میں پاس کیا۔ گریجوایشن کا امتحان ایم ۔ اے ۔ او کالج لاہور سے ۱۹۸۵ ء میں پاس کیا۔ گریجوایشن میں ان کے مضامین اردو ادب اور نفسیات تھے۔ ایم ۔اے سائیکالوجی کا امتحان گورنمنٹ کالج لاہور سے ۱۹۸۹ ء میں پاس کیا۔ آپ کے والد محترم کا نام محمد طفیل ہے۔ آپ کے والد ۱۹۴۰ ء میں لاہور میں پیدا ہوئے ۔ محمد طفیل کی پانچ اولادیں ہیں۔ سب سے بڑے بیٹے امجد طفیل ہیں ان کے بعد دوسرے بیٹے کا نام اقبال جاوید ہے۔ تیسرے نمبر پر بیٹی شازیہ طفیل ہیں ان کے بعد محمد زبیر طفیل ، ان کے بعد امجد کامران اور سب سے چھوٹی بیٹی کا نام ارم طفیل ہے۔ ان بہن بھائیوں میں ارم طفیل نے زیادہ عمر نہ پائی اور محض اکیس( ۲۱)...
تحقیق بنیادی ماخذ بنیادی ماخذات مندرجہ ذیل ہیں۔ ۱۔ذاتی کاغذات ذاتی کاغذات میں رقعے،ڈائریاں،بیاض،دستخط شدہ دستاویزات اور یادداشتیں وغیرہ شامل ہیں۔ ۲۔روزنامچے اس میں ڈائریاں وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ ۳۔سرکاری مطبوعات اکادمی ادبیادیات اور سرکاری اشاعت وغیرہ  ۴۔انسائیکلوپیڈیا ۵۔سوانح۔آپ بیتی ۶۔خطوط نجی خطوط جو آپ نے کسی کے نام لکھے ہوں یا کسی نے آپکے نام لکھے ہوں ۷۔وصیت نامے تحریری اور دستخط شدہ وصیت نامہ ۸۔وڈیوفلمیں وڈیو اور آڈیو ۹۔چشم دید گواہ حدیث متواتر ایسی حدیث جو مسند اور کثرت سے موجود ہو احاد جس حدیث کی روایت کم موجود ہو۔ حدیث احاد کی قسمیں احاد مشہور: جس کے تین راوی موجود ہوں احاد عزیر: جس کے ہر زمانے میں دو راوی موجود ہیں احاد غریب:جس کے ہر زمانے میں ایک راوی موجود رہا ہو۔ راوی کی خصوصیات ایک بات کو دوسرے تک پہنچانے والے کو راوی کہتے ہیں راوی سچا ہو گا تو حدیث بھی مستند ہو گی۔۲۔راوی کا خاندان دیکھا جاتاہے ۳۔پیشہ دیکھا جاتا ہے۔۴۔متقی اور پرہیزگار ہو۔۵۔نماز کی ادائیگی کے معمولات اعلی ہوں۔۶۔صوم و صلواۃ کا پابند ہو۔۷۔ماں ...
اردو ترجمہ نگاری سندھی زبان مختلف آراء سندھی زبان کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں مثلاً پہلی رائے کے مطابق سندھی اس علاقے کی قدیم ترین زبان ہے اسی سے سرائیکی اور پنجابی زبانیں وجود میں آئیں۔دوسری رائے کے مطابق سندھی ہندوستانی زبانوں کا ہی کوئی غیر ترقی یافتہ نمونہ ہے ۔تیسری رائے یہ ہے کہ سندھی بہت مالدار زبان ہے اور یہ سنسکرت کی کوئی شاخ ہے جو ترقی کر کے زبان بن گئی۔ تاریخی پہلو تاریخی اعتبار سے آریاؤں کی وادی سندھ میں آمد تقریباً ۰۰۳۲ ۔۰۰۵۱ ق م تک کا عہد گنا جاتاہے۔اُن دنوں وادی سندھ دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر آباد ی کی صورت میں آباد تھی جن میں مہر کوٹ،موہنجودڑو،ہڑپہ،حسن ڈھیری اور ڈیجی کے علاقے شامل تھے یہ آبادیاں اُس وقت دریائے سندھ کے دونوں کناروں پر موجود تھیں اور آج بھی ہیں۔ماہرِ لسانیات پشل کے مطابق سنسکرت پراکرتوں کی بنیاد نہیں ہے بلکہ پراکرت کی بنیاد وہاں کی عوامی زبان ہو سکتی ہے۔ سندھی زبان کا رسم الخط عربوں کے عہد میں وجود میں آیا اور ڈاکٹر عبدالمجید میمن کے مطابق سندھی زبان کی پہلی نظم تیسری صدی ہجری یا نویں صدی عیسوی میں لکھی گئی اور اسی دور میں عراق...